Sunday, November 28, 2021
HomeGeneralآمریت کی امربیل

آمریت کی امربیل

[nextend_social_login]

آمریت کی امربیل

یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارا ملک ایک فلاحی مملکت کی بجائے سیکیورٹی سٹیٹ ہے اور یہاں انہی کے مفادات کا تحفظ ہی مقدم رکھا جاتا ہے جنہوں نے اولین دور سے ہی غاصبانہ طریقوں سے ملکی نظام کو اپنی آہنی مٹھی میں جکڑ رکھا ہے 

یہاں ایک بات کی اچھے سے وضاحت ہوجائے کہ اس ملک میں جمہوریت اپنی روح کے مطابق کبھی بھی کسی بھی طور رائج نہیں رہی ہے

پاکستان نے اپنے بننے کے پہلے دن سے ہی مطلق العنانی برداشت کی ہے

 بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بغیر کسی جمہوری عمل کے 1935ء کے انڈین ایکٹ کے تحت خود کو ملک کا پہلا گورنر جنرل ڈکلیئر کر لیا اور اسی ایکٹ کے تحت لیاقت علی خان کو بھی وزیراعظم بنوا دیا

ان کے گزر جانے کے بعد خواجہ ناظم الدین ، ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا بھی اسی نظام کے تحت گورنر جنرل بنتے چلے گئے

غرض پہلے تین گورنر جنرلز اور پہلے تین وزرائے اعظموں کی تعیناتی خالص آمرانہ اور جمہوری نظام کے منافی عمل میں لائی گئی حتیٰ کہ پہلے مارشل لاء لگنے تک مانگے تانگے کی آئینی حکومتیں ہی گھسٹ گھسٹ کر امور مملکت کی انجام دہی کرتی رہیں اور کوئی جمہوری عمل وجود میں نا آسکا

تو مضبوط جمہوری نظام کا فقدان اس ملک میں پہلے مارشل لاء کا سبب بنا جس نے آگے مزید ڈکٹیٹروں کو طالع آزمائی کا موقع فراہم کیا

بغیر کوئی روک ٹوک اور بغیر کسی احتسابی ڈر کے باعث آمروں کا حوصلہ اس حد تک بڑھا کہ خدا بن بیٹھے اور پلے سے ہی خود کو ملکی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دے دیا 

رائج دستور کو بوٹوں تلے روند کر آنے والے ہر بدنیت آمر نے کرپشن خاتمے کا نعرہ مستانہ بلند کیا ، خود کو مسیحا اور سیاسی لیڈران کو کرپٹ اور غدار ٹھہرایا اور ملکی مسائل کو چٹکیوں میں حل کرکے نئے الیکشن تک مارشل لاء کے نفاذ کو ضروری قرار دیا انکی کی پہلے دن کی بدنیتی بھولی عوام کو تب سمجھ آئی جب یہ گیارہ گیارہ سال مسلسل اقتدار سے چپکتے چلے گئے اور کبھی کتا کہلوانے پہ مسند اقتدار چھوڑی تو کبھی ملک الموت نے انکی روح قبض کرکے سسکتے بلبلاتے عوام پہ احسان عظیم فرمایا یا پھر کسی سے نا ڈرتے ورتے ڈکٹیٹر نے مواخذے کے ڈر سے استعفیٰ دیا

یہاں یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ وطن عزیز کو جب بھی کوئی ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا آمریت کے زیر سایہ دور میں ہی اٹھانا پڑا 

جن سیاست دانوں کی جھوٹی سچی کرپشن اور بدعنوانی کا ڈھنڈورا پیٹ کر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے انکی کردار کشی کی گئی اور غداری کے فتوے تک لگوائے گئے انکے دور میں بھی مملکت پاکستان کا وہ نقصان کبھی نا ہوسکا جو ان محب وطن ڈکٹیٹروں نے اپنے سنہری دور میں کیا ( وہ چاہے دریاؤں کا بیچا جانا ہو ، سقوط ڈھاکہ ہو، سیاچن سے پسپائی ہو یا پھر موجودہ دور میں سقوط کشمیر یہ سب انہی کے مبارک ادوار کے تحفے ہیں)

اسی گفتگو کے تناظر میں ان آمروں کے اقتدار پر مسلط ہونے میں اعلیٰ عدلیہ کا شرمناک کردار بھی اپنے اندر ایک سیاہ تاریخ سموئے ہوئے ہے انہوں نے جب جب نوزائیدہ ، نازک ملوک سی لولی لنگڑی جمہوریت پہ شبخون مارا اعلیٰ عدلیہ نے بجائے آئین کی سربلندی اور مزاحمت کے ڈکٹیٹروں کی رکھیل بننے میں ہی عافیت جانی اور اپنے قلم سے انکے ناجائز قبضے کو نظریہ ضرورت کے تحت عدالتی تحفظ عطا کیا

ڈائریکٹ مارشل لاء ہو یا جرنیلی منشاء کے مطابق بنا نام نہاد “جمہوری ہائیبرڈ نظام” عدلیہ اپنے جانبدارانہ فیصلوں سے اسکی آج کے دن تک توثیق کرتی چلی آئی ہے 

آمروں کے آنکھوں میں کھٹکتے والے سیاستدانوں کا عدالتی قتل ہو یا حکومت سے بے دخلی اور آمروں کے لاڈلے ذہنی اور اخلاقی طور پر کرپٹ کٹھ پتلی کو صادق و امین ہونے کی عدالتی کلین چٹ دے کر ملک کو سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار کرنے میں عدلیہ آمروں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں رہی

ہمارے ملک میں جمہوریت کا ادنیٰ سا درخت آمریت کی امربیل میں جکڑا ہوا سوکھ رہا ہے اس درخت کا ایک مضبوط تنا 1971 میں کٹ کر اسے پہلے ہی نقصان پہنچا چکا ہے باقی شاخیں بھی قریب المرگ ہیں جو نہایت ہی روح فرسا اور خطرناک صورتحال کا منظرنامہ پیش کررہی ہیں

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی بقا کے سوال کو سنجیدگی سے لیا جائے اور خود کو اس واقعی ہی نازک صورتحال سے نکالنے کی جدو جہد کی جائے بصورت دیگر بہت ہی بھیانک قسم کی تصویر بنتی نظر آرہی ہے جو کہیں سے بھی خوش نما نہیں

ریحانہ کنول

RELATED ARTICLES

12 COMMENTS

  1. پہلی بار میں ہی سب سمجھا دیا بہت ہی پریسائز اور کمال لکھا کوزے میں دریا بند
    ویل ڈن اینڈ کیپ اٹ اپ

  2. Zabardast……, Baht khobsurat alfaaz sy Tarikh ki tarjamani ki hai r sach likhny main koi aar nhi mehsos ki……
    Baht Khob

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular