Thursday, January 27, 2022
HomeGeneralفطری بھوک اور ہمارے رویے

فطری بھوک اور ہمارے رویے

ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہم کھانا کھاتے ہیں۔ہمارے دن کی شروعات روٹی کمانے کی فکر سے شروع ہوتی ہے۔رات سونے تک ہمارے دماغ میں گھر کے کچن کی فکر رہتی ہے۔جس طرح ہم پیٹ کی بھوک کے لیے فکر کرتے ہیں۔ویسے ہی ہماری جبلت میں سیکس بھی شامل ہے۔
میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ جوں جوں ہمارے رویوں میں شدت پسندی آتی گئی ہے۔توں توں ہمارے رویے فرسٹریشن کا شکار ہونے لگ گئے۔گھروں میں والدین کا بیٹے اور بیٹی کی تربیت و پرورش میں ایک واضح فرق نظر اتا ہے۔لڑکا ہے تو گھر کے کام کیوں کرے۔باہر سے سودا سلف لانا،دوستوں کے ساتھ پھرنا اور ہر طرح سے ان کے لیے ایک آئیڈیل اور بعض صورتوں میں مجھے لگتا ہے کہ ان کو بگاڑنے کا ماحول دیا جاتا ہے۔
بیٹی ہے تو گھر کے کام کرے گی۔باپ بھائی کے احترام میں غلط بات پہ بھی چپ رہے گی۔ہوش سنبھالنے پہ گھر کی چار دیواری میں رہنا اور ہر وقت کی روک ٹوک اس کا اعتماد ختم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
جنس کی بنیاد پہ فرق گھر سے شروع ہوتا ہے۔اس کے بعد یہ خلیج بڑھتے بڑھتے سکول کالج اور یونیورسٹی تک بھی چلتی ہے۔لڑکی اور لڑکے کو ایک دوسرے کے لیے ہوا بنا کے رکھا جاتا ہے۔ان کی عمر کے ساتھ بڑھتے ان کی جسمانی تبدیلیوں و ہارمونز کی تبدیلی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔نتیجتا نوجوان بچے بچیاں اپنی زندگی میں بہت سے غلط فیصلے اور غلطیاں کر لیتے ہیں۔
اس کی مثال کچھ عرصہ پہلے ہوئے یونیورسٹی کے جوڑے کی غلطی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی لاپرواہی سے لڑکی کی موت پہ ختم ہوئی۔ہمارے یہاں والدین بچوں سے نجانے کیوں ایک فاصلہ بنائے رکھنے میں خوش رہتے ہیں۔اگر والدین عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو خود سیکس ایجوکیشن دیں تو بہتری کی گنجائش ہے۔
لیکن بجائے اس کے کہ ہم بچوں کو ان کی جسمانی ساخت کی تبدیلیوں کے متعلق خود گائیڈ کریں۔ہم ان کو معاشرے کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتے ہیں۔اس معاشرے میں پھر عثمان مرزا جیسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔جو پہلے تو نوجوانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔پھر ان کو ٹریپ کر کے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔مجھے ایک سوال کا جواب دیں کہ اگر اس جوڑے کو اپنے گھر والوں کی جانب سے سپورٹ و اعتماد ملا ہوتا۔تو کیا عثمان مرزا نے جو کیا وہ بچ سکتا تھا۔ہمارے یہاں تو یہ عالم ہے کہ لڑکی کو اگر باہر دفتر بازار گلی بس یا سڑک پہ چلتے چھیڑا جائے،تو وہ گھر آ کے اس ڈر سے نہیں بتاتی کہ کہیں اس کی تعلیم و نوکری چھڑوا نہ دی جائے۔یا پھر اسی پہ الزام نہ دھر دیا جائے کہ تم نے ہی کچھ کیا ہو گا۔وکٹم بلیمنگ میں تو ہم ویسے ہی ماہر لوگ ہیں۔اور سب سے زیادہ وکٹم بلیمنگ ہمارے قریبی لوگ کرتے ہیں۔
اگر بچوں کو بالغ ہونے کے بعد سیف سیکس ایجوکیشن والدین کی جانب سے ہی دے دی جائے،تو بچے غلطیاں نہیں کریں گے۔اور اگر آپ کو میری اس بات میں بے حیائی یا فحاشی نظر آ رہی ہے تو بھلے آپ اپنے بچوں کو لوہے کے انڈروئیر پہنا کے تالے لگا دیں۔چابی اپنے پاس رکھ لیں۔وہ پھر بھی اس تالے کو کھولنے کا طریقہ ڈھونڈ لیں گے۔اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
بچوں کی شلواروں کے پہرے دار بننے کی بجائے ان کے دماغ کی شعوری بہتری کے لیے کام کریں۔انہیں زندگی کی اونچ نیچ اچھائی برائی اس طرح سمجھائیں کہ وہ آپ کو اپنا دشمن نہیں دوست سمجھیں۔
ٹین ایج کے ساتھ ہی بچے میں ہارمونل تبدیلیاں آنے لگ جاتی ہیں۔آپ کچھ بھی کر لیں وہ صنف مخالف کی جانب اٹریکٹ ہوں گے۔اس وقت آپ کی توجہ اور درست تربیت ان کی اگلی زندگی میں بہت مددگار ثابت ہو گی۔
فطرت کے تقاضوں سے منہ موڑنا اور ان سے نظر چرانا یہ مناسب بات نہیں۔معاشرے میں فرسٹریشن کا یہ عالم ہے کہ ہاکی کے کھلاڑی سمیع اللہ کے مجسمے سے ایک آدمی اپنی جنسی بھوک مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس بات سے بالکل قطع نظر کہ اسے کوئی دیکھ سکتا ہے یا بات کھلنے پہ اس کی بدنامی ہو سکتی ہے۔بات کی تہہ تک پہنچئیے کہ ایسی کون سی چیز ہے جس نے اسے اس حد تک نڈر بنا دیا۔
شہوت کے زیر اثر افراد ہی پھر اس شہوت کے زیر اثر نہ تو بچے بچیوں کو بخشتے ہیں نہ عورتوں کو نہ جانوروں کو۔جب سیکس کو ایک فطری چیز سمجھنے کی بجائے ایک ٹیبو بنا دیا جائے۔ایک ایسی چیز جس پہ بات کرنے سے ہی لوگوں کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے تو ہم کیسے یہ توقع کریں کہ معاملات سلجھ سکتے ہیں۔
ابھی بھی وقت ہے۔اپنی زمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے انسانوں کی زندگی آسان کریں۔قانون صرف غریب کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ جو کام ایک فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے میں جائز ہے وہ ایک لکشمی چوک میں بنے ہوٹل کے کمرے میں کسی عام سے گیسٹ ہاؤس میں غلط کیسے ہو گیا۔
بات تو بس سمجھ کی ہے۔سمجھ میں مشکل ہی آئے گی۔

نوشی بٹ

RELATED ARTICLES

2 COMMENTS

  1. بہت سچی حقیقت ہے اور تمام خرابی کی وجہ لاعلمی اور والدین کی تربیت کی کمی ہے ۔ گھروں اور خاندانوں میں ہے عمر میں بڑے چھوٹوں کا جنسی شکار کرتے ہیں اور بچے عالم خوف میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتا سکتے ۔۔۔ بہت عمدہ مضمون ہے جیتی رہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular