Wednesday, January 26, 2022
HomeGeneralچاہت

چاہت

وہ محبت میں نرمی  کی طلبگار تھی اور چاہتی تھی کہ اسکے خوبصورت جسم کو سہلایا جائے۔جس طرح پھولوں کی نرمی اور نزاکت کو انگلیوں کے پوروں سے محسوس کیا جاتا ہے۔ گہری سانسوں کے ساتھ سونگھا یا پیار سے  چوما جاتا ہے نہ کہ کھرل میں ڈال  ہوان دستے سے رگڑا جائے۔

چاہت

(افسانہ) 

تحریر :راجہ مہتاب علی 

دروازہ کھلا اور کنڈی چڑھنے کی آواز آئی جو زونی کو سنانے کے لیئے چڑھائی گئی تھی لیکن وہ منہ پھیرے بیٹھی رہی حالانکہ خفا نہ تھی،پھر بھی دل میں لپٹنے کی خواہش  پیدا نہ ہو سکی .

 

“ناراض ہو؟”زونی یوں دیکھتی رہی گویا  کوئی  شیشے کے دوسری طرف سے مخاطب ہو. آنکھوں میں پانی بھر آنے سے منظر دھندھلا گیا لیکن دل سے کوئی سسکی نکلی نہ زبان  سے اف۔

اس نے زونی کے کندھوں پر ہاتھ رکھے،ہونٹوں نے بھی جانا پہچانا لمس محسوس کیا۔ یہ ہاتھ،یہ رس چھوڑتے ہونٹ اور بل کھاتی لہراتی زباں ہفتوں بعد اس وصل میں  وہ  لذت  اور  سرور تھا جو چھوڑ دینے کے  مدت بعد  سگرٹ کے پہلے کش سے ملتا ہے۔ زونی کا جسم پانی بنتا جا رہا تھا اور چھیڑ چھاڑ سے اس پانی میں لہریں پیدا ہو رہی تھیں۔ ان ہاتھوں، ہونٹوں اور زبان کو سہلانے،اپنانے اور لبھانے کا فن خوب آتا تھا۔

بیلوں کے سے دو بازور اسکے جسم سے لپٹے جا رہے تھے  اور  مانوس سی خوشبو قربت کا نشہ بڑھا رہی تھی۔ زونی نے گہری سانس بھر کے آنکھیں موند لیں۔گھٹی سانسیں پمپ  کی طرح  چلنے لگیں اور تنے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔ دونوں جسم ایک دوسرے سے   آشنا تھے۔ لذت آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔دائیں کان سےذرا نیچے پاوڈر ملک جیسی رنگت والی گردن پر جمع شدہ لوو بائٹ کے جمے خون کومانوس ہونٹ  بھی محسوس کر رہے تھے۔محبت سہلانے کا نام ہے نہ کہ دکھانے کا!!!! سانسوں کی سرگوشی کا جواب  بدن کی حدت نے دیا۔ تین ہفتے زونی نے کس کرب میں گزارے ہوں گے اسے خوب اندازہ تھا۔ زونی کا دولہا دیکھ کر دنیا فدا ہوئی جاتی تھی لیکن اسے اپنے دولہا کے سکس پیکس  میں دلچسپی تھی، مردانہ وجاہت  میں نہ پہروں پیار کرنے کی اہلیت سے بلکہ وہ تو اسے پیار ہی نہیں سمجھتی تھی کیونکہ وہ محبت میں نرمی  کی طلبگار تھی اور چاہتی تھی کہ اسکے خوبصورت جسم کو سہلایا جاے۔جسطرح پھولوں کی نرمی اور نزاکت کو انگلیوں کے پوروں سے محسوس کیا جاتا ہے۔ گہری سانسوں کے ساتھ سونگھا یا پیار سے  چوما جاتا ہے نہ کہ کھرل میں ڈال  ہوان دستے سے رگڑا جائے۔

زونی کی ماں اسکی اچھی سہیلی تھی۔ باپ اور بھائی بھی  خاصے لبرل واقع ہوئے تھے لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ کسی کو قائل نہیں کر پائے گی۔شائد وہ خود بھی اس رشتے کی قائل نہ تھی۔ بس  ایک کشش تھی جسے وہ خود دوستی سے بڑھ کر کوئی اور  نام دینے کی ہمت نہ رکھتی تھی۔ ماں،باپ حتی کہ بھائیوں نے بھی اپنی لاڈلی سے بار بار اسکی مرضی اور پسند پوچھی لیکن وہ رائے نہ دے سکی۔

باہر ماربل کی سیڑھیوں پر انچی ایڑی والے جوتے ٹک ٹک کی ردھم باندھ رہے تھے۔دونوں الگ ہونا نہ چاہتے تھے لیکن قریب آتی ٹک ٹک کے باعث ہونا پڑا۔ زونی نے عجلت میں کھلے بالوں کو جوڑے میں باندھا اور  جسم پر بڑا سا اونی سویٹر چڑھا کر زپ گلے تک بند کردی۔ دروازے پر ہلکی سی دستک  سے پہلے  دونوں سنبھل چکے اور کنڈی بھی احتیاط سے اتاری جا چکی تھی۔ماں نے دروازہ کھولا اور مسکراتے ہوئے بولی “بیلا!!! بیٹا بہت اچھا کیا تم آگئیں،زونی تمھیں بہت مس کر رہی تھی”

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular